حضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری ؒ اور فخر ملت حضرت پیر سید افضل حسین شاہ جماعتی ؒ آستانہ عالیہ علی پور شریف نارووال



یہ امر حقیقت ہے کہ ہر دور میں ایک غوث اور مجدد ہوتا ہے جو اس دور میں رہنے والے کاملین مشائخ اور علماء کیلئے روحانی اور علمی سربراہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس کو تصوف و طریقت اور روحانیات میں اتھارٹی کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ جس کو براہ ِ راست روحانیات کے چشموں سے فیض خداوندی اور فیض رسالت مآب ﷺحاصل ہوتا ہے ۔ جس کی روحانی پرواز آسماں کی بلندیوں کو چھوتی ہے اور جس کا تصرف انسان کے دل کی اتھاہ گہرائیوں کا بھی پتا چلا لیتا ہے ۔ امیر ملت ، سنوسی ٔ ہند حضرت پیر سید جماعت علی شاہ رحمۃ اللہ آستانہ عالیہ علی پور شریف نارووال کی عظیم روحانی مذہبی شخصیت تھی جو اپنے وقت کے مجدد بھی تھے ، غوث بھی تھے اور کامل ولی اللہ تھے ۔ انہیں عالم روحانیات میں وہ عظیم مرتبہ و مقام حاصل تھا جو کبھی کسی کو نصیب نہیں ہوا ۔ تحریک پاکستان میں ان کا کردار نمایاں تھا ۔ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال بذات ِ خود ان کے آستانے پر حاضری دیتے تھے ۔ آل انڈیا سنی کانفرنس جو پاکستان بننے سے پہلے بنارس میں منعقد ہوئی تھی اس کی صدارت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ ؒ نے فرمائی ۔ جہاں ان کو امیر ملت Leader of the Muslim Community چنا گیا ، اور حقیقتاً انہوں نے اپنا یہ کردار بہ احسن انجام دیا ۔ مسلم لیگ کی کامیابی کیلئے اور قیام پاکستان کی تحریک میں ان کی ان تھک اور مخلصانہ کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ ؒ محدث علی پوری ایسی عظیم روحانی شخصیت تھی کہ انہیں عالم روحانیات سے فیض الٰہی اور فیوضات محمدی ﷺ ہمہ وقت ملتے رہتے تھے ۔ وہ جامع الکمالات بھی تھے اور جامع الفیوضات بھی تھے ۔ وہ پیکر بشریت تھے لیکن عالم روحانیات کے مسافر تھے ۔ ان کی علمی سطح سمندر کی طرح وسیع و عریض تھی ۔ ان کے روحانی فیوضات شرق سے لے کر غرب تک ، عالم عرب سے لے کر یورپ کی سرزمین تک پھیلے ہوئے تھے ۔
حضرت امیر ملت محدث علی پوری ؒ نے دین مصطفیٰ ﷺ کی سربلندی اور ترویج و اشاعت کیلئے جو عظیم مِشن شروع کیا تھا اس عظیم مِشن کے

آسمان ولایت کے آفتاب جہاں تاب ، فخر ملت حضرت پیر سید افضل حسین شاہ رحمۃ اللہ علیہ



تسلسل کیلئے آپ کے جگر گوشہ اور جانشین آسمان ولایت کے آفتاب جہاں تاب فخر ملت حضرت الحاج الحافظ پیر سید افضل حسین شاہ ؒ نے اپنی 70 سالہ زندگی میں دن رات صبر و استقلال کے ساتھ محنت و جہدوجہد کی ۔ یہ حقیقت ہے حضرت فخر ملت ، امیر ملت محدث علی پوری کا پیکر اتم تھے ۔ وہ اپنے وقت کے ایسے مجدد تھے جن کے پاس دینی علم بھی تھا اور دنیاوی علم بھی ۔ وہ تجدید احیائے دین کیلئے ہر وقت کوشاں رہتے تھے ۔ انہوں نے ہمیشہ فرسودہ اور قدیم روایات کے خلاف جنگ لڑی ۔ 32 سال تک آستانہ عالیہ علی پور شریف میں سجادہ نشین رہے ۔ اسلام کو اس کی حقیقی روح میں پیش کیا اور اسلامی فقہہ و حدیث کا علم درست اور عام فہم انداز میں پیش کیا ۔ فخر ملت غوث الاعظم ؒکے عزت و تکریم والے درجہ ٔ ولایت اور مسند ولایت پر متمکن و فائز تھے ۔ سادگی انتہا کی تھی ، کبھی اپنی برتری یا بزرگی کا دعویٰ نہیں کیا ۔ جو دلی ارادہ کر لیتے تھے وہ آناً فاناً پورا ہو جاتا تھا ۔ ان کی علمی سطح آسمان کی بلندیوں کو چھوتی تھی ۔ وقت کے ارباب دانش و بینش اور بڑے بڑے جید علماء آپ سے علمی و روحانی
راہنمائی حاصل کرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔ان کے وعظ و تقاریر سننے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں لوگ آپ کے جلسوں میں شرکت کرتے تھے ۔ آپ جہاں بھی جاتے تھے ہجوم عاشقاں ہوتا تھا ۔ لوگ سینکڑوں میل کا طویل فاصلہ طے کر کے روحانی فیض لینے اپنے شیخ طریقت کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے ۔ ان کی ذات میں مقناطیسی کشش تھی ۔ ان کے مریدین اور متوسلین کا دائرہ لاکھوں میں تھا ۔ آپ کے مریدین امریکہ ، یورپ ، مشرق وسطی اور پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں ۔ وہ علم و حکمت و روحانیات کا بلند مینار تھے ۔
فخر ملت حضرت پیر سید افضل حسین شاہ صاحب ؒ کی ہستی مبارکہ ان کے مریدین ، متوسلین اور ان کے خاندان عالیہ مقدسہ کیلئے ایک قیمتی اثاثہ تھی ۔ وہ عالم بے بدل تھے ۔ مرشد ِ باکمال تھے ۔ پیر مغاں تھے ۔ حسن و خوبی ، قدر و منزلت و علم و فضل میں کوئی ان کا ثانی نہیں ۔ وہ ایک قیمتی ہیرے کی مانند تھے ۔ وہ فضائوں میں محو پرواز تھے جو کوئی آسمانی مخلوق دکھائی دیتے تھے ۔ قدرت کا عظیم شاہکار تھے ۔ ان کی شخصیت میں فقر و غنا بھی تھا ،

سجادہ نشین آستانہ عالیہ علی پور شریف حضرت الحاج الحافظ پیر سید ظفر حسین شاہ مدظلہ العالی


عاجزی و انکساری بھی تھی ۔ عظمت و جلالت بھی تھی اور شان و شوکت بھی تھی ۔ وہ ایک بحر بیکراں تھے ۔ ایسا سمندر جس کا کنارہ
نہیں تھا ۔ انہوں نے آج کے مادہ پرستانہ دور میں امام غزالی ؒ کا کردار ادا کیا ۔ امام اعظم ؒ کا کردار ادا کیا اور خزاں رسیدہ شجر دین کو سرسبز و شاداب کر دیا ۔ آپ کی علمی ثقاہت کی بدولت ہزاروں جاہل عالم بنے ۔ آپ کی نگاہ ولایت سے ہزاروں گناہگار پارسا بنے ۔ آپ کی روحانی تربیت سے ہزاروں لوگ پیران عظام بنے ۔ آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے قاری قرآن اور عاشق رسول بنے ۔ وہ ایک ایسی طلسماتی شخصیت تھے جو پتھروں کو انمول ہیروں میں تبدیل کر دیتے تھے ۔ بقول شاعر

میرا شیخ مکتب ہے اک عمارت گر

اور جس کی صنعت ہے روح انسانی

فخر ملت حضرت پیر سید افضل حسین شاہ ؒ پیدائشی ولی اللہ تھے ۔ آپ کی کم عمری میں آپ سے سینکڑوں کرامات بیان کی گئیں ۔ فخر ملت پر امیر ملت محدث علی پوری ؒ کی خصوصی عنایات و شفقت تھی ۔ آپ امیر ملت کے لاڈلے بیٹے تھے ۔ آپ کے ولی کامل ہونے کے بارے میں امیر ملت محدث علی پوری ؒ نے بذات خود پیش گوئی فرما دی تھی ۔ فخر ملت کو حضور سرور کائنات ﷺ کے دربار عالیہ میں خصوصی مقام حاصل تھا ۔ دربار رسالت ﷺمیں اکثر حاضری دیتے تھے ۔ مدینہ شریف میں کئی عشروں سے رہائش پذیر روحانی و وجدانی بزرگ حضرت سید مسکین علی شاہ ؒ کے بقول اگرچہ فخر ملت ظاہری طور پر پاکستان میں موجود ہوتے تھے لیکن ہر روز بلاناغہ صبح کی نماز سے پہلے روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتے تھے اور کئی بار مسکین علی شاہ ؒ نے خود بھی آپ کو ظاہری حالت میں دیکھا ۔

سجادہ نشین آستانہ عالیہ علی پور شریف حضرت الحاج الحافظ پیر سید ظفر حسین شاہ جماعتی مدظلہ العالی


حضرت فخر ملت تمازتوں کے صحرا میں محبتوں کا گلاب تھے ۔ وہ ساری زندگی روشنیاں تقسیم کرتے رہے ۔ محبتیں بانٹتے رہے ۔ خوشبویں بکھیرتے رہے ۔ وہ شمس الآفاق تھے ۔ حضرت فخر ملت مرشد باکمال تھے اور ہر مرید کے ساتھ خصوصی محبت و شفقت کا اظہار کرتے تھے ۔ حضرت امیر ملت ؒکو آپ سے اور آپ کو امیر ملت ؒسے محبت تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج مکین گنبد بیضا ہیں اور حضرت امیر ملت محدث علی پوری کے پہلو میں آپ ؒ کا روزہ مبارک ہے ۔ مالہ ٔ اعلیٰ سے نوری مخلوق آپ کے مزار پر ُ انوار پر جوق در جوق حاضری کیلئے اترتی ہے اور صل ِ علیٰ کے نغمے الاپتی ہے ۔
فخر ِ ملت ایک فکری تحریک کا نام تھا جس نے املت مسلمہ کی سوچوں میں تموج کے آثار پیدا کیے۔ جنہوں نے افراد کے دل و اذہان پر محبت بھری دستک دی ۔ جنہوں نے مادیت پرستی کے دور میں روحانیت کی قندیل روشن کی ۔ جنہوں نے ذہنوں کا زنگ اتارا ۔ روحوں کا میل دھویا اور بھٹکے ہوئے معاشرے کو صراط مستقیم دکھایا ۔ وہ علم و حکمت کا ایسا پیکر تھے کہ اپنے دور کے لقمان حکیم دکھائی دیتے تھے ۔ گفتگو انتہائی سادہ ، شیریں اور دل پذیر انداز میں کرتے تھے جو دلوں میں اترتی چلی جاتی تھی ۔ ان کی تقریر میں ساحرانہ جادوگری تھی ۔سننے والے دم بخود رہ جاتے تھے ۔ گفتگو نہایت سادہ لیکن دلائل و استنباط سے بھرپور ہوتی تھی ۔ قرآن و حدیث و فقہہ سے مستند حوالے دینا اور روایات کو حقیقی معنوں میں پیش کرنا ان کی وطیرہ تھا ۔ فخر ملت انتہائی رقیق القلب بھی تھے ۔ کسی کے دکھ پریشانی کو دیکھ کر بے چین ہو جاتے تھے ۔ انتہائی جاذب نظر تھے ۔ ان
کی ہر ہر ادا میں علمی بصیرت جھلکتی تھی ۔ اخلاص و قربانی کا جذبہ ان کی شخصیت مقدسہ کا خاصہ تھا ۔
فخر ملت حضرت پیر سید افضل حسین شاہ ؒ عقل و دانش ، حکمت و بصیرت اور سیرت و کردار کا ایک حسین ماڈل تھے ۔ ان کی گفتگو دانشمندی اور عقلمندی کا خوبصورت مرقع ہوتی تھی ۔ ان کی گفتگو میں تصنع اور بناوٹ نام کو نہ تھی ۔ ان کا وعظ روحوں کو شاداب کر دیتا تھا اور جسموں کو سرسبز و شاداب کر دیتا تھا ۔ حضرت فخر ملت کا وصال اس دلیل کا متقاضی ہے کہ انہوں نے فانی دنیا کو بڑی خاموشی سے خیر آباد کہتے ہوئے اپنا سفر آخرت کیا ۔ انہوں نے اپنی حیات ظاہری احکامات خداوندی کے مطابق گزاری اور پیغمبر پاک ﷺ کے فرمودات عالیہ کو عام کیا ۔ ان کی حیات طیبہ لاریب زندگی کے ہر ہر پہلو میں مینارہ نور تھی ۔ اور آپ کا ہر ہر عمل شریعت و سنت محمدی ﷺ کے عین مطابق تھا ۔ اپنے مریدین اور متوسلین کے لئے وہ ایک بہترین ماڈل کی حیثیت رکھتے تھے ۔ عوام و خواص ان کی تقلید کرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے ۔ آپ کے آستانے پر روحانی فیوضات حاصل کرنے والوں کا ہر وقت تانتا بندھا رہتا تھا ۔ آپ کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ہزاروں کا مجمع آناً فاناً جمع ہو جاتا تھا ۔ دربار رسالت ﷺ میں آپ کو وہ مقام حاصل تھا جس پر فرشتے بھی رشک کرتے تھے ۔ آپ کے وجود اطہر میں خوشبوئے رسالت مآب ﷺ پائی جاتی تھی ۔ آپ جہاں بھی جاتے تھے خوشبوئیں اور روشنیاں بکھیرتے جاتے تھے ۔ آپ کی ہستی مبارکہ سے ایک کرامت منسوب ہو چکی تھی اور آپ کے مریدین ، معتقدین اور متوسلین کو پورا یقین تھا کہ آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے تھے بے شک شدید گرمی کا موسم ہوتا لیکن آپ کی آمد اور تشریف آوری کے ساتھ ہی خوشگوار ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہو جاتی تھیں ۔ آسمان پر بادل اڑنا شروع ہو جاتے تھے ۔ جیسے وہ اس عظیم شہزادہ رسالت مآب ﷺ کو سلامی دینے کے لئے اور آپ کا استقبال کرنے کے لئے آسمان پر اڑتے پھر رہے ہوں ۔ نسیم خوشگوار کا چلنا روشنیوں کا جگمگانا اور آسمان کی وسعتوں پر حسین بادلوں کا لہرانا اس امر کا غماض ہوتا تھا کہ یہ ہستی
کوئی عام ہستی نہیں بلکہ یہ ہستی مبارکہ امیر ملت محدث علی پوری کا جانشین اور کشور خوباں کا صدر نشیں ہے ۔ اپنے وقت کا مجدد اور محدث ہے جو لاکھوں
کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے اور فیضان محمد ﷺ کا حقیقی وارث ہے ۔
فخر ملت حضرت پیر سید افضل حسین شاہ ؒ امن و محبت کے داعی تھے ۔ وہ روحانیات کا کوہ ہمالیہ تھے ۔ انہوں نے روحانیات کا وہ فکری نظام بنایا جو کئی صدیوں تک عوام الناس کے لئے قطبی ستارے کی طرح رہنمائی کرتا تھا ۔ فخر ملت دراصل دھرتی کے رنگ بدلنے کا نام تھا ۔ موسم بہار کی تروتازگی ان کی مقدس شخصیت کا لازمی حصہ تھی ۔ ان کی ذات مجسمہ ٔ نور مصطفیٰ ﷺ اور مجسمہ امیر ملت محدث علی پوری ؒ تھی ۔ ان کی ذات میں سادگی و مروت تھی ۔ گھمنڈ ، غرور نام کو نہ تھا ۔ سر تا پا عاجزی و انکساری تھی ۔ ان کی گفتگو میں کاٹ نہیں بلکہ مٹھاس تھی ۔ ان کے انداز متکلم میں وقار ہوتا تھا ۔ ان کے خطبات دلنشین و دل پذیر ہوتے تھے ۔ طویل گفتگو کرنے کی بجائے چند الفاظ میں مفہوم واضع کر دیتے تھے ۔
فخر ملت کی ہستی مبارکہ میں ایک عجیب قسم کی طمانیت و سکون تھا ۔ وہ ایک ایسے بہتے دریا کی مانندتھے جس میں ہلچل نام کو نہ تھی ۔ ان کی اکثر تقاریر میں تسلسل کے ساتھ اور بڑی فصاحت کے ساتھ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کے حوالے ہوتے تھے ۔ حضرت فخر ملت صبح نور کا مسافر تھے ۔ ان کی شخصیت سے صبح نور کی روشنی پھوٹتی تھی ۔ ان کی موجودگی میں شام یا خزاں کا احساس تک نہ ہوتا تھا ۔ ان کی مجلس و صحبت میں بیٹھنے والوں کو کمال قلبی اطمینان نصیب ہوتا تھا ۔ وقت کے جید مشائخ و عظام ، امراء و روساء ان کے آستانے پر سر جھکا کے آتے تھے ۔
حضرت فخر ملت کے وصال کے بعد آپ کے اکلوتے فرزند سائبان کرم ، پاسبان حرم ، ظفر الملت ، توقیر ملت حضرت الحاج پیر سید ظفر حسین اہ صاحب مدظلہ العالیٰ جانشین ِامیر ملت اور جانشین فخر ملت مقرر ہوئے ۔ یہ امر حقیقت ہے کہ حضرت فخر ملت کے جگر گوشہ جناب حضرت پیر سید ظفر حسین شاہ مدظلہ العالی اپنے والد کی طرح ملکوتی صلاحیتوں کے مالک ہیں جن کی ذات میں وفا کے موتی چمکتے ہیں جو سلطنت ِ محبت کے شہر یار ہیں ، شہزادہ رسالت مآب ﷺ ہیں اور فیضان امیر ملت محدث علی پوری ؒ کے پاسبان ہیں ۔ شرافت کے حسین عنوان ہیں ۔ علی پور کے چاند اور تاجدار ہیں ۔ کہکشائیں ان کے دم قدم سے قائم ہیں ۔ عظمتوں کا نشان اور آفتاب نوبہار ہیں ۔

صاحبزادگان سید نور حسین شاہ ۔ سید رافع حسین شاہ ۔ سید اشرف حسین شاہ

    

سجادہ نشین آستانہ عالیہ علی پور شریف ، ظفر الملت حضرت پیر سید ظفر حسین شاہ مدظلہ العالی انے والد گرامی قدر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر کسی کے ساتھ خندہ پیشانی اور عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔ حد درجہ کے مہمان نواز اور غمگسار ہیں ۔ پیکر رعنائی و زیبائی ہیں ۔ پیکر حسن جانفزاء ہیں ۔ صبح ِدرخشاں کی مانند ہیں ۔ چاہتوں کا مِصداق اور حسن و خوبی کا شاہکار ہیں ۔ رنگوں اور خوشبوئوں کا سفینہ ہیں ۔ سرچشمہ ٔ اوصاف و کمالات ہیں ۔ الغرض حضرت ظفر الملت سرتاپا جلوہ ٔ امیر ملت و جلوہ فخر ملت ہیں ۔ گلشن سرور دو عالم ﷺ کے سرَمدی پھول ہیں ۔ حضرت ظفر الملت قندیل نور ہیں ، آفتاب فلک ولایت ہیں ، اوج شانِ فصاحت ہیں ۔ یہ مریدین کی آنکھوں کی راحت ہیں ، التفات کا پیکر ہیں ، نور و نکہت کا پیکر ہیں اور لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حضور سرور ِ کائنات ﷺ کے تصدق جگر گوشہ ٔ فخر ملت ، ظفر الملت پیر سید ظفر حسین شاہ مدظلہ العالی کو لمبی عمر عطا کرے ۔ آمین

تجھ پہ سایہ فگن ہو سدا مصطفیٰ ﷺ

سر پہ چھائی رہے رحمتوں کی رِدا

نام تیرا رہے زندہ و جاوداں

یونہی مہکا رہے تیرا یہ گلستاں

تحریر : پروفیسر محمد انور جماعتی بھلوال ضلع سرگودھا
فون:6062201 0300

Tweet about this on TwitterShare on Google+Share on Facebook